18 جنوری 2013 - 20:30

بحرين ميں عوام نے جمعے کوانقلابي تنظيموں اور آل خليفہ حکومت کي مخالف سياسي جماعتوں کي اپيل پر ملک گير مظاہرے کئے –

 ابنا: دارالحکومت منامہ  سميت بحرين کے سبھي شہروں اور قريوں ميں عوام نے انقلابي تنظيموں اور حکومت مخالف جماعتوں کي اپيل پر وسيع پيمانے پر مظاہرے کئے - اکثر شہروں ميں عوام نے نماز جمعہ پڑھنے کے بعد آل خليفہ حکومت کے خلاف احتجاجي جلوس نکالے ليکن بعض شہروں ميں عوام جلوس کي شکل ميں نماز جمعہ کے مراکز تک پہنچے اور پھر نماز جمعہ کے بعد احتجاجي ريلي نکالي-      بحرين کے عوام نے يہ مظاہرے ايسے عالم ميں کئے ہيں کہ بحرين کي انقلابي تنظيموں اور سياسي جماعتوں کي جانب سے کئي روز   قبل سے ہي جمعے کو ملک گير مظاہروں کا اعلان کرديا گيا تھا جس کے پيش آل خليفہ حکومت نے پورے ملک ميں سيکورٹي بڑھادي تھي -    منامہ، سترہ، کرزکان، شہرکان اور  مہزہ سميت مختلف شہروں ميں آل خليفہ حکومت کے سيکورٹي اہلکاروں اور سعودي فوجيوں نے مظاہرين پر فائرنگ اور زہريلي آنسو گيس کي شيلنگ کي - ان مظاہروں کے دوران عوام نے سبھي سياسي قيديوں کي فوري رہائي کے مطالبے  کا اعادہ کيا اور اعلان کيا کہ آل خليفہ حکومت کے خاتمے اور جمہوريت کے قيام تک ان کي انقلابي تحريک جاري رہے گي - مظاہرين نے اسي کے ساتھ اپنے ملک سے تمام غير ملکي فوجيوں کي فوري واپسي کا مطالبہ بھي  دوہرايا ہے -     يہ ايسي حالت ميں ہے کہ چند روز قبل بحرين سے موصولہ ايک رپورٹ ميں بتايا گيا تھا کہ سعودي عرب سميت خليج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے تازہ دم فوجي دستے عوام کي سرکوبي کے لئے بحرين پہنچے ہيں - اس رپورٹ کے مطابق عرب ملکوں کے تازہ دم فوجي دستے بحرين اور سعودي عرب کے درميان بننے والے پل کے ذريعے اور منامہ کے بين الاقوامي ہوائي اڈے کے ذريعے بحرين ميں داخل ہوئے ہيں -    ياد رہے کہ  بحرين ميں فروري دو ہزار گيارہ سے عوام کي انقلابي تحريک کا آغاز ہوا اور  مارچ دو ہزار گيارہ ميں ہي سعودي عرب اور متحدہ عرب امارات سميت مختلف عرب ملکوں نے اپنے  فوجي دستے  عوام کي سرکوبي کے لئے بحرين بھيج ديئے  جن کي وحشيانہ کاروائيوں ميں اب تک سو سے زائد بحريني عوام  شہيد اور ايک ہزار سے زائد زخمي ہوئے ہيں جن ميں کمسن بچے بھي شامل ہيں- اس کے علاوہ سيکڑوں سياسي کارکنوں، سماجي کارکنوں حتي ڈاکٹروں اور نرسوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے -

.......

/169